4 اپریل 2012 - 19:30

شنگھائي تعاون تنظيم کے رکن اور مبصر ممالک کے سينئر ماہرين نے ماسکو اجلاس ميں ، اس تنظيم اوراسلامي جمہوريہ ايران کے درميان تعاون کي اہميت پر زور ديا ہے.

ابنا: ماسکو سے موصولہ خبروں کے مطابق سن دو ہزار بارہ سے دو ہزار اٹھارہ کے دوران شنگھائي تنظيم ميں تعاون کے فروغ کے جائزے کے لئے  رکن اور مشاہد ممالک کے ماہرين اور محققين کي شرکت سے  ماسکو ميں منعقدہ اجلاس ميں  اس تنظيم کے ساتھ تعاون کے لئے ايران کي وسيع گنجائشوں کي وضاحت کي گئ ۔ اجلاس کے شرکاء نے اسي طرح علاقے اور دنيا ميں اسلامي جمہوريہ ايران کي اہم پوزيشن خاص طور پر علاقائي تنظيموں اور شنگھائي تعاون تنظيم کے ساتھ ايران کے تعاون کي اہميت کي جانب اشارہ کرتے ہوئے ، اسلامي جمہوريہ ايران کي ايٹمي سرگرميوں کے پر امن ہونے پر زور ديا ۔  تنظيم ميں روس کے خصوصي نمائندے نے واضح کيا ہے کہ ان  کا ملک ، شنگھائي تعاون تنظيم ميں ايران کي رکنيت کي حمايت کرتا ہے کيونکہ ايران علاقے کا سب سے زيادہ موثر ملک ہے اور علاقائي امن و پائيداري ميں اہم کردار کا حامل ہے۔ اس اجلاس ميں چين کے نمائندے سون لين زان نے بھي کہا کہ ايران مشرق وسطي کا سب سے زيادہ موثر ملک ہے جو چين کے ساتھ  ديرينہ دوستانہ تعلقات رکھتا ہے......

/169